Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi
- Get link
- X
- Other Apps
شاعرِ ہجر ذیشانؔ امیر سلیمی کی غزل کا کلاسیکی و فکری مطالعہ
غزل
مری ذات کے تھکے جسم سے، کوئی تھوڑا درد اُدھار لے
میں تھکن کے بوجھ میں ہوں کہیں، کوئی آ کے مجھ کو پکار لے
اسی وحشتوں کے ہجوم میں، کوئی عکسِ ابرِ کرم بنے
مرے بخت کے کسی موڑ پر، وہی لمسِ یار سنوار لے
یہ جو ہجر کی شبِ دیرپا، مری چشمِ تر میں اتر گئی
اسی درد کے کسی نور سے، مری جاں ذرا سی نکھار لے
میں تھکا ہوا ہوں لبِ افق، کسی شام کی سی ڈھلان پر
مرا ہاتھ تھام کے کوئی اب، مجھے روشنی میں اُتار لے
یہ جو ان کہی سی پکار ہے، اسے کون دے گا سماعتیں؟
وہی ڈھونڈ لائے سکوت سے، وہی بخت آ کے ابھار لے
اسی دشتِ ہجر کی دھوپ میں، سبھی سائباں جو پگھل گئے
ابھی وقت ہے کہ یہ کہرِ غم، رخِ زندگی کو سدھار لے
کسی شاخِ جاں پہ بکھر گئیں، وہ جو خواہشوں کی تھیں تتلیاں
انہیں رنگ دے کوئی یاد اک، انہیں یادِ یار نکھار لے
یہ جو سوچ سوچ کے تھک گئی، کسی آخری سے سوال پر
اِسے ایک خواب کی سادہ لو، کوئی سمت دے کے گزار لے
مری خامشی کے حصار میں، کوئی حرفِ وصل اُتر ہی آئے
مرے ٹوٹتے ہوئے حوصلے، کوئی نام لے کے پکار لے
شاعر: ذیشانؔ امیر سلیمی
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment