Zeeshan Ameer Saleemi Famous Ghazal
ذیشانؔ امیر سلیمی کی ایک نہایت معروف، فکری سطح پر مرتکز اور کلاسیکی شعری وقار کی حامل غزل
غزل
ذیشانؔ امیر سلیمی
تبصرہ نگار
ذیشانؔ امیر سلیمی عصرِ حاضر کی اردو غزل میں اس دبستان کے نمائندہ شاعر ہیں جہاں ہجر محض وارداتِ دل نہیں رہتا بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور روحانی تجربے میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ تہذیبی ضبط کے تابع، اور جذبہ فکری ترتیب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ کلاسیکی روایت کی رمزیت، صوفیانہ وقار اور جدید انسان کی داخلی تنہائی ان کی شاعری میں ایک ہم آہنگ نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی غزل محض قاری کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے باطن میں دیرپا ارتعاش پیدا کرتی ہے۔
اشعار پر تفصیلی، کلاسیکی و تنقیدی تبصرہ
اس شعر میں خوابِ دل کو ایک باقاعدہ بساط کا درجہ دیا گیا ہے جہاں فراق ایک ناگزیر وبال کی صورت جلوہ گر ہوتا ہے۔ شاعر صبرِ شب کو قرینہ کہہ کر ہجر کو روحانی تربیت میں بدل دیتا ہے۔ وقت سے سوال نہ کرنے کا رویہ تقدیر کے سامنے شعوری رضا کی علامت ہے۔ یہ شعر عاشق کی اخلاقی پختگی اور فکری وقار کو نمایاں کرتا ہے۔ کلاسیکی تغزل میں یہی ضبط اعلیٰ شعری مرتبہ سمجھا جاتا ہے۔
یہاں حیات کو کتاب اور فراق کو اس کا مستقل باب بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر درد کو شہر کے چراغ میں ڈالنے سے منع کرتا ہے، گویا ذاتی کرب کو نمائش سے محفوظ رکھتا ہے۔ دردِ شب کی حنا کہنا دکھ کو جمالیاتی شرافت عطا کرتا ہے۔ یہ شعر داخلی تہذیب اور نفسیاتی وقار کی اعلیٰ مثال ہے۔
اس شعر میں ناگفتہ درد کو معنوی مرکزیت حاصل ہے۔ شاعر کے نزدیک اصل اذیت وہ ہے جو لفظ کا جامہ نہ پہن سکے۔ آبروئے سوال کہنا درد کو اخلاقی تقدس عطا کرتا ہے۔ لبوں کو ضبط میں ڈھالنا مشرقی شعری روایت کی علامت ہے۔ خاموشی یہاں کمزوری نہیں بلکہ قوت بن جاتی ہے۔
یہ شعر عشق کی ناہمواری کو وجودی بوجھ قرار دیتا ہے۔ شاعر اپنی کج ادائی کو راز بنا کر زلفِ خیال میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں عشق محض جذبہ نہیں بلکہ خود آگاہی کا عمل بن جاتا ہے۔ فکری پیچیدگی کو حسن میں بدلنے کا یہ انداز کلاسیکی غزل کی پہچان ہے۔
یہ شعر صبر کو بھی آزمائش کی لکیر بنا دیتا ہے۔ عذابِ عشق کو کمالِ کرب کہنا عاشق کے فکری مرتبے کی نشاندہی کرتا ہے۔ شاعر شکایت کے امکان کو مسترد کر دیتا ہے۔ یہاں عشق عبادت اور ریاضت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یہاں وقت کی سختیاں داغ اور دھوپ کے استعاروں میں ڈھلتی ہیں۔ گمانِ فصل امید کی ایک نازک کرن ہے جسے شاعر آنسو کی اوٹ میں محفوظ رکھتا ہے۔ یہ ضبط شدہ رجائیت کا بیان ہے۔ امید یہاں شور نہیں بلکہ وقار کے ساتھ سانس لیتی ہے۔
یہ شعر اداسی کو روح کے موسم کی مستقل کیفیت بنا دیتا ہے۔ شاعر اسے خامشی میں نڈھال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ سکوت یہاں معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ کلاسیکی غزل میں ایسی اداسی فکری بلوغت کی علامت ہے۔
یہ شعر یادوں کی تخلیقی قوت کا نہایت شفاف استعارہ ہے۔ خزاں رسیدہ راکھ سے گلاب کا کھلنا زندگی کی تجدید کا اعلان ہے۔ شاعر یاد کو دل کی مٹھی میں پالنے کا درس دیتا ہے۔ ماضی یہاں بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ بن جاتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کی قربت زندگی بخش حرارت بن جاتی ہے۔ شاعر اس تجربے کو لفظوں میں محدود نہیں کرنا چاہتا۔ لمس کی مثال رکھنا عشق کی بے لفظ صداقت کی علامت ہے۔ خاموشی یہاں بیان سے زیادہ بلیغ ہو جاتی ہے۔
یہ شعر جنبشِ لب کو صبحِ دل سے تعبیر کرتا ہے۔ شاعر اس لمحے کو سانس میں محفوظ رکھنے کا کہتا ہے۔ یہ کیفیت محض رومان نہیں بلکہ روحانی بیداری کا استعارہ ہے۔ شعر نور اور تازگی سے معمور ہے۔
یہاں دعا لرزتے ہوئے مگر زندہ احساس کی صورت سامنے آتی ہے۔ شاعر اسے لفظوں کے خوف میں چھپانے کے بجائے درد کی شکل میں ابھارنے کا مشورہ دیتا ہے۔ درد یہاں حیات اور صداقت کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ شعر اظہار کی جرات کا مظہر ہے۔
اس آخری شعر میں حسن کو نورِ حق کی تجلی قرار دیا گیا ہے۔ شاعر نظر کی دھول سے بچانے کی تلقین کر کے باطنی بصیرت پر زور دیتا ہے۔ جمال اور روحانیت یہاں یکجا ہو جاتے ہیں۔ غزل فکری بلندی پر پہنچ کر وقار کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے۔
اختتامی کلمات
یہ غزل ذیشانؔ امیر سلیمی کے شعری شعور، کلاسیکی تربیت اور فکری وقار کی مکمل نمائندہ ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ ایک مستقل معنوی کائنات رکھتا ہے۔ یہ کلام محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ تہذیبی ضبط، اخلاقی بلندی اور عشق کی پاکیزہ روایت کا تسلسل ہے۔ سنجیدہ قاری کے لیے یہ غزل بلاشبہ اردو غزل کے معتبر اور باوقار سرمایے میں ایک درخشاں اضافہ ہے۔

Comments
Post a Comment