Famous Urdu Gazal Zeeshan Ameer Saleemi
غزل
نہ خواب کی ہوں میں تعبیر، نہ دل کا کوئی قرار ہوں میں
شامِ درد کی مدھم لے میں، ڈھلتا ہوا اظہار ہوں میں
شورِ دنیا نے مجھ سے پوچھا، کیا ہے ٹھکانہ ترا آخر
صرف یہی میں نے کہا، خامشیِ وقتِ غبار ہوں میں
خزاں رسیدہ لمحوں میں بھی، نامِ بہار لبوں پہ رہا
ہر بکھرے ہوئے موسم کا، خاموش سا اعتبار ہوں میں
گردِ سفر نے ڈھانپ ہی رکھا، چہرۂ خوابِ رفتہ کو
یادِ ناتمام کی بستی میں، باقی بچا کردار ہوں میں
یادِ گلاب کی تپتی خوشبو، ہر اک سانس کو جلاتی رہی
خاکِ جدائی کے آنگن میں، سلگتا ہوا اشجار ہوں میں
دردِ رواں کی سلگتی موجوں نے، شکل نئی سی دے ڈالی
ٹوٹے ہوئے احساس کی بستی کا، آخری معمار ہوں میں
جامِ گریزاں کی تلخی نے، ہونٹوں سے حرف چرا لیا
پیے بغیر جو ٹوٹ کے بکھرے، ایسا ہی اک خمار ہوں میں
سانسِ شکستہ کے پردے میں، عمر نے خود کو دیکھا ہے
ڈوبتے ہوئے ہر اک لمحے کا، سانسوں پہ رکھا ادھار ہوں میں
خاکِ راہِ وجود میں گم ہو کر خود کو پایا ہے
ٹوٹتے ہوئے ہر منظر کا، ٹھہرا ہوا آثار ہوں میں
ہے دنیاءِ سخن میں سانس کی دھیمی لَے جاری ذیشانؔ
وقت کی خاموش بستی میں، حرفِ روشن اظہار ہوں میں
ذیشانؔ امیر سلیمی

Comments
Post a Comment